Shehr O Funn

Rehana Mangi

Paerda, 2013
Human hair on charsuti cloth, 107 x 55 inches

Untitled I
, 2013
Human hair on charsuti cloth, 49 x 64 inches

Untitled
, 2013
Human hair on charsuti cloth, 180 x 39 inches

Rehana Mangi (b. 1986, Larkana, Sindh) lives and works in Karachi, Pakistan.
Rehana Mangi’s miniature works involve drawing, painting, collage, needlework, embroidery and most intriguingly, human hair. Her practice is notable for the high level of intricacy which also involves cross-stitch.
Regarding her work exhibited at LB01, the artist states, “this body of work initially started as a response to certain difficult personal circumstances. I had the habit, inherited from my grandmother, of unconsciously collecting my fallen hair. I used to spend a lot of time drawing these collected bunches of fallen hair, during my years as a student at National College of Arts, Lahore. Simultaneously, I started drawing minute grids on wasli paper, which became a therapeutic and a meditative process for me at the time. Subsequently, drawing upon my childhood experiences of learning the craft of cross-stitch in my village, I started stitching on this wasli paper with the collected hair.”
Mangi studied miniature painting at the National College of Arts in Lahore and graduated in 2007 (with Distinction). She has a Masters in Art and Design from Beaconhouse National University. Her works are included in numerous international collections

 

ریحانہ منگی

پیرڈا، ۲۰۱۳
چارسوتی کپڑے پر انسانی بال، ۵۵ ۔ ۱۰۷ انچیز

اَن ٹیٹلڈ ۱، ۲۰۱۳
چارسوتی کپڑے پر انسانی بال، ۶۴ ۔ ۴۹ انچز

اَن ٹیٹلڈ، ۲۰۱۳
چارسوتی کپڑے پر انسانی بال، ۳۹ ۔ ۱۸۰ انچز

 

ریحانہ منگی (پیدائش ۱۹۸۶، لاڑکانہ، سندھ) کراچی، پاکستان میں رہتی ہیں اور کام کرتی ہیں۔
ریحانہ منگی کےمنی یچرز میں ڈرائنگ، پینٹنگ، کولاج، سوئی کا کام، کڑھائی اور سب سے زیادہ دلچسپ انسانی بال شامل ہیں۔ اس کی مشق اعلی سطح کی پیچیدگی کے لئے قابل ذکر ہے جس میں کراس سٹیچ بھی شامل ہے۔

فنکارہ ل بی ۰۱ میں نمعا ش کردا کام کے متعلق کھتی ہیں کہ، ” ابتدائی طور پر یہ کام ایک ذاتی ر ِدعمل کی شکل میں شروع ہوا۔ ایک موروثی عادت جو مجھے اپنی دادی سے ورثے میں ملی وہ غیر ارادی طور پر گرتے ہوئے بالوں کو اکٹھا کرنا ہے۔ نیشنل کالج آف آرٹس میں پڑھتے ہوئے میں اپنا وقت گرتے ہوئے بالوں کو اکٹھا کرنے میں گزارا کرتی تھی اسی دوران میں نے وصلی پر منٹ ڈرائنگ شروع کر دی یہ کام میرے لئے بے حد فائدہ مند رہا۔ کچھ وقت بعد بچپن میں سیکھی گئی کراس سلائی کے تجربے کی یاد تازہ کرتے ہوئے میں نے وصلی کاغذ پر بالوں کو سینا شروع کیا “۔

منگی نے لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے منی ایچر پینٹنگ میں تعلیم حاصل کی اور ۲۰۰۷ میں گریجویٹ (تفصیل کے ساتھ) کیا۔ اس نے بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی سے آرٹ اور ڈیزائن میں ماسٹرز کیا اور اِس کے کام متعدد بین الاقوامی مجموعوں میں شامل ہیں۔




Lahore Biennale Foundation