Open Call for Research Collaborators (Photo Essays) : LBF Virtual Museum

Open Call, Public Project, Digital Repository, Virtual Museum, Public Outreach


In continuation of the public programming initiated by the Lahore Biennale Foundation (LBF) and in response to the new forming realities post C-19 pandemic, LBF is setting up a Virtual Museum: an online open source digital platform. It is a Public Art Project based on new and archival research on cultural and artistic research – a platform for artists, creative practitioners and visitors to create projects that investigate their shared cultural heritage and the legacies of creative practice that have emerged from it, with place being a significant contextual frame. New ways of experiencing and thinking about culture carved out by virtue of technological advances, will be utilized to reconnect the public with their heritage, while simultaneously allowing them to collectively create a new understanding of their current cultural landscape. The virtual museum will amplify local voices in a way its physical counterparts cannot do , as it lets local actors tell their own stories by creating digital representations to serve as emissaries of their cultural values – values that have themselves evolved over time to have multiple meanings. 

Component Title: Legacy of Storytelling and Contemporary Literature in Pakistan and the Diaspora:

Curator: Ali Usman Qasmi

Research Lead/Co-Curator: Mahmood ul Hasan 

The LBF Virtual Museum will have multiple components. This particular segment will reflect on the legacy and evolution of storytelling in Pakistan, and all its varying forms. The oral tradition of Dastangoi, the role of literature in imaging the identity of the nation, the development of postcolonial literature, and the cultural politics of language and its effect on literature. 

The Lahore Biennale Foundation is seeking young, local researchers/artists/historians to collect research based photo essays for the component  ‘Legacy of Storytelling and Contemporary Literature in Pakistan and the Diaspora’. This project will trace the history of Pakistani literature, its aesthetics, and symbolic repertoires with a focus on the cultural milieus that produced these literary texts. . The project investigates the role of literature in catalyzing political resistance in Pakistan, the confluence between art and literature and role of the arts in shaping the literary landscape, along with analyzing the movements and shifts in Urdu and English language literature in Pakistan


  • To collect archival material from Urdu literary journals and other such sources about Pakistan’s literary history
  • To take photographs and record videos of key sites relating to cultural and literary production in Lahore
  • Help curate the narrative about Pakistan’s literary history through audio-visual material 


  • Applicants must be based in Lahore
  • Applicants must exhibit an interest in Urdu literature and basic skills in photography/videography
  • Applicants must have their own camera, recording equipment(s)
  • Applicants must be comfortable with working in the field
  • 50,000 per month for a two-month contract

Guidelines for Submissions:

Applicants must send by email:

  • A sample photo-essay on the above mentioned theme (5 photos max.)
  • A short statement/one-pager essay in Urdu detailing their vision for the project  
  • A CV and portfolio

*Emails to be sent to: 

Deadline for Submissions: 

20th June 2022


لاہور بینالے فاؤنڈیش وِرچوئل میوزیم کے لیے محققین کو درخواست(تصویری مضامین) جمع کروانے کی دعوت

پس منظر:

لاہور بینالے فاؤنڈیشن (ایل بی ایف) کی طرف سے شروع کیے گئے عوامی پروگراموں کے تسلسل میں، اور کوویڈ 19 کے بعد جنم لینے والے نئے حقائق کے ردِعمل میں، ایل بی ایف ایک وِرچوئل میوزیم قائم کر رہا ہے: کھؙلے ذرائع کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم۔ یہ ایک عوامی آرٹ پروجیکٹ ہے جس کی بنیاد ثقافتی و فنکارانہ کھوج پر مبنی دستاویزی تحقیق ہے۔ یہ پلیٹ فارم فنکاروں، تخلیقی کاروں، اور فن سے شغف رکھنے والے عام شہریوں کو ایسے منصوبے تشکیل دینے کا موقع فراہم کرے گا جو اؙن کے اپنے سانجھے ثقافتی ورثے اور اس کی کھوکھ سے جنم لینے والی تخلیقی مشق کی وراثتوں پر تحقیق کی کھوج لگآئے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی سے تشکیل پانے والی ثقافت کے تجربے اور سوچ بچار کے نئے طریقے استعمال کیے جائیں گے تاکہ عوام اپنے ورثے سے دوبارہ جڑ سکیں اور ساتھ ہی ساتھ اجتماعی طور پر اپنے موجودہ ثقافتی منظرنامے کے متعلق نئی فہم و فراست بھی پیدا کر سکیں۔ وِرچوئل میوزیم عوامی آوازوں کی اس طرح پذیرائی کرے گا یہ دیگر آف لائن مقابل میوزیم (physical counterparts) کے بس میں نہیں، کیونکہ یہ مقامی کرداروں کو ڈیجیٹل تخلیقات کے ذریعے اپنی کہانیاں بتانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایسی تخلیقات جو اؙن کی ثقافتی اقدار کے سفیر کا کردار ادا کرتی ہیں، اور جو وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھیں اور پھر کئی مفاہیم اختیار کر گئیں۔

عنوان: پاکستان اور بیرون ممالک پاکستانیوں میں قصّہ گوئی اور ہم عصر ادب کی وراثت

کیوریٹر: علی عثمان قاسمی

سرکردہ محقق/ شریک کیوریٹر: محمود الحسن

ایل بی ایف وِرچوئل میوزیم کے کئی حصّے ہوں گے۔ یہ خاص حصّہ پاکستان میں قصہ گوئی کی وراثت، اِس کی مخلتف اقسام اور ارتقاء پر توجہ مرکوز کرے گا۔ داستان گوئی کی زبانی روایت، قوم کی تصوراتی شناخت میں ادب کا کردار، مابعد نوآبادیاتی ادب، زبان کی ثقافتی سیاست اور ادب پر اس کے اثرات۔

لاہور بینالے فاؤنڈیشن، اپنے پروجیکٹ ‘پاکستان اور بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں میں قصّہ گوئی اور ہم عصر ادب کی ثقافت’ کے لیے تحقیق پر مبنی تصویری مضامین اکٹھا کرنے کے لیے نوجوان، مقامی محققین/ فنکاروں/ تاریخ دانوں کی تلاش میں ہے۔ یہ پروجیکٹ پاکستانی ادب، ادبی جمالیات کی تاریخ اور ادب کے علامتی ذخیرے کا سراغ لگائے گا۔ اِن ادبی نمونوں کی تخلیق کا سبب بننے والے ثقافتی حالات اِس پوری مشق کی توجہ کا محور ہوں گے۔ اِس پروجیکٹ کے ذریعے پاکستان میں سیاسی مزاحمت کو متحرک کرنے میں ادب کے کردار، فن اور ادب کے سنگم اور ادبی منظر نامے کی تشکیل میں فنونِ لطیفہ کے کردار کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اؙردو اور انگریزی زبان کے ادب میں پیش آنے والی تحریکوں اور تبدیلیوں کا تجزیہ کیا جائے گا۔

ذمہ داریاں

پاکستان کی ادبی تاریخ کے متعلق اؙردو زبان کے ادبی جرائد اور دیگر ذرائع سے دستاویزی مواد اکٹھا کرنا

لاہور میں ثقافتی و ادبی مواد سے متعلق اہم مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز ریکارڈ کرنا

آڈیو- بصری مواد کے ذریعے پاکستان کی ادبی تاریخ کے بیانیہ کی تشکیل

شرائط و ضوابط:

درخواست گزاروں کا لاہور میں مقیم ہونا ضروری ہے

درخواست گزاروں کو اؙردو ادب میں دلچسپی ہو اور فوٹو گرافی/ ویڈیو گرافی کی بنیادی مہارتیں حاصل ہوں

درخواست گزاروں کے پاس اؙن کا اپنا کیمرہ، ریکارڈنگ آلات کا ہونا ضروری ہے

درخواست گزار فیلڈ میں کام کرنے کے لیے آمادہ ہوں

دو ماہ کی مدت کے معاہدے کے لیے فی ماہ پچاس ہزار روپے

درخواستیں جمع کروانے کے لیے ہدایات:

درخواست گزار ای میل کریں:

مذکور بالا عنوان پر تصویری مضمون کا نمونہ (زیادہ سے زیادہ پانچ تصاویر)

اؙردو زبان میں ایک صفحے پر مشتمل مختصر مضمون جس میں درخواست گزار اِس پروجیکٹ کے بارے میں اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کریں

ایک CV اور Profile

درخواست درج ذیل ای میل پتے پر ارسال کریں:

درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ: 20 جون 2022

About Ali Usman Qasmi

Born and raised in Lahore, Ali Usman Qasmi is a historian of modern South Asia. He has published extensively in his area of expertise, including two monographs – Questioning the Authority of the Past: The Ahl al-Quran Movements in the Punjab, and The Ahmadis and the Politics of Religious Exclusion in Pakistan (winner of Karachi Literature Festival Peace Prize). Along with several journal articles and chapters in academic works, he has co-edited three volumes, including Muslims Against the Muslim League: Critiques of the Ideas of Pakistan. He has previously been the recipient of the Newton International Fellowship for postdoctoral research. Since 2012, Qasmi has been teaching history at the LUMS University’s School of Humanities and Social Sciences.

لاہور میں پیدا ہوئے اور پرورش پانے والے علی عثمان قاسمی جدید جنوبی ایشیا کے مورخ ہیں۔ انہوں نے اپنی مہارت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر شائع کیا ہے، جس میں دو مونوگراف شامل ہیں – ماضی کی اتھارٹی پر سوال اٹھانا: پنجاب میں اہل القرآن تحریکیں، اور احمدیوں اور پاکستان میں مذہبی اخراج کی سیاست (کراچی لٹریچر فیسٹیول پیس پرائز کے فاتح۔ )۔ علمی کاموں میں متعدد جریدے کے مضامین اور ابواب کے ساتھ، انہوں نے تین جلدوں کی مشترکہ تدوین کی ہے، جن میں مسلم لیگ کے خلاف مسلم : پاکستان کے نظریات کی تنقید بھی شامل ہے۔ وہ اس سے قبل پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ کے لیے نیوٹن انٹرنیشنل فیلوشپ کے وصول کنندہ رہے ہیں۔


About Mahmood ul Hassan

Mahmood ul Hassan was born in Lahore. He did his Masters in Mass Communication. He has been associated with Urdu Journalism for 15 years. He is still associated with an Urdu daily. He has published many articles on literature, politics and cricket on the website ‘Hum Sab’. He regularly writes on these topics for the website ‘Urdu News’.

Mahmood ul Hassan’s three books have been published. His book ‘Sharaf-e-Hum Kalami’ based on a conversation with eminent writer Intezar Hussain was published in 2017. His book “Lahore Shahar Pur Kamal” , based on pre-partition memories of Lahore of three well known Urdu writers, Rajendra Singh Bedi, Krishna Chandra and Kanhiya Lal Kapoor was published in 2020. Recently, a book of his essays ‘Guzri Hoi Dunya’ has come out.

محمودالحسن لاہور میں پیدا ہوئے۔ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کیا۔پندرہ برس سے اردو صحافت سے منسلک ہیں ۔اس وقت بھی ایک اردو روزنامے سے وابستہ ہیں۔برصغیر کی ممتاز ادبی و علمی شخصیات کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔ ادب ،سیاست اور کرکٹ کے بارے میں ویب سائٹ ‘ہم سب ‘ پر ان کے بہت سے مضامین چھپ چکے ہیں۔انھی موضوعات پر ویب سائٹ’ اردو نیوز‘ کے لیے باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔
محمودالحسن کی تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ممتاز ادیب انتظار حسین سے بات چیت پر مبنی ان کی کتاب ‘شرفِ ہم کلامی’ 2017 میں شائع ہوئی ۔اردو کے تین معروف مصنفین، راجندر سنگھ بیدی،کرشن چندر اور کنھیا لال کپورکی تقسیم سے پہلے لاہور سے جڑی یادوں پر ان کی کتاب”لاہور شہرِ پُر کمال’ 2020 میں چھپی۔حال ہی میں ان کے مضامین کی کتاب ‘ گزری ہوئی دنیا سے’ سامنے آئی ہے۔

The Lahore Biennale Foundation has partnered with the British Council to develop the LBF Virtual Museum.