Afrah Shafiq

Sultana’s Reality, 2017
Interactive multi-media installation, duration: 2 min 16 secs

Sultana’s Reality is an immersive interactive multimedia story that explores the relationship between women and the colonial education movement in British India using archival imagery, women’s writing and history.
Drawing its title from Sultana’s Dream, the 1905 science-fiction short story of feminist utopia, by Begum Rokeya Sakhawat Hossein, Sultana’s Reality explores the inner lives of the first generation of women to be educated in the Subcontinent.
The story is told through re-imagining traditional visual imaginations of the female form. It tries to explore the multiplicity of women’s history and also image making – the ways in which it is told and remembered. Sultana’s Reality is perhaps an exercise in questioning history. Not the history of the image, but a history that is constructed with the image. Women gazing out of windows are perhaps not romantic pictures connoting sensuality, luxury and the feminine form in all its glory. They may rather be images of women who are bored, who are imprisoned (sometimes within their own minds), who are uninspired. Pairing the visual and textual histories reveal a plethora of hidden revolutionary thoughts that churned behind lack luster eyes. Can the image be re-imagined, re-interpreted, re-mixed, re-contextualized?

افرہ شفيق

سلطانہ کی حقیقت ایک استغراقی تفاعلی ملٹی میڈیا کہانی ہے۔ ِاس کہانی میں دستاویزی منظرنگاری، خواتین کی تحاریر اور تاریخ کی مدد سے برطانوی ہندوستان میں نوآبادیاتی تعلیم کی تحریک اور خواتین کے درمیان تعلق کو آشکار کیا گیا ہے

بیگم رقیہ سخاوت حسین نے ۱۹۰۵ میں فیمینسٹ یوٹوپیا پر مبنی ایک افسانہ سلطانہ کا خواب شائع کیا۔سلطانہ کی حقیقت اسافسانےکےعنوانسےمتاثرہوکربِرصغیرمیں تعلیم حاصل کرنے والی عورتوں  کی پہلی نسل کی داخلی زندگیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے

کہانی کو َاینی میٹڈ ویڈیو، اشکال،گرا ِفکس، ظریفیوں، کولاژوں اور نسائی ہیئت کے روایتی بصری تخیلات کی  ازسِرنوخیال آفرینی،ازسِرنوتشریح،ری مکسنگ  اورتضمین کےذریعےبنائی گئی دیگر ڈیجیٹل آرٹ کی اصناف کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ اس میں عورتوں کی تاریخ کی مختلف پرتوں کو دریافت کرنے کی کوشش کی گئی ہے – اور وہ تاثر ابھارنے کی جس انداز میں اسے بیان کیا گیا اور یاد رکھا گیا ہے۔ سلطانہ کی حقیقت شاید تاریخ پر سوال اٹھانے کی ایک مشق ہے۔ صرف تصویر کی تاریخ ہی نہیں، بلکہ اس تصویر کے ساتھ تعمیر ہونے والی ایک تاریخ کی بھی۔کھڑکی سےباہرجھانکتی  ہوئی عورتیں شاید محض حسّیت،آسائشاورنسائی ہیئت کی اپنی تمام شان و شوکت کے ساتھ تعبیر دیتی ہوئی رومانوی تصویریں ہی نہیں ہیں۔ بلکہ یہ ان عورتوں کی تصویریں ہو سکتی ہیں جو اکتائی ہوئی ہیں، جو قید ہو چکی ہیں (کبھی کبھار خود اپنے ذہنوں کے اندر)، جو سپاٹ پنے اور بے کیفی کا شکار ہیں۔ تصویری اور تحریری تاریخوں کو باہم جوڑنے سے ان انقلابی خیالات کی ایک بہتات ہم پر آشکار ہوتی ہے جو ان گہنائی ہوئی بے نور آنکھوں سے جھلکتی ہے۔ کیا تصویر کی باز آفرینی، تشریح ثانی، ری مکسنگ اور دوبارہ سیاق و سباق سازی ہو سکتی ہے؟




Text and video stills courtesy the artist