Khadim Ali

Invisible Border series, 2019 – 2020
Oil on canvas, and two tapestries, new commission

As a child, home was the place where I was born: Quetta, Pakistan. I remember, the sky was clear and blue for days. The nights full of stars. A city with four seasons. Snow and cold and rain and the smell of soil. This home – my house – became more meaningful to me every day, as I grew older. Early one morning my mother put on my best clothes. She kissed my eyes and sent me to school. In class I came across different faces and colours: different sounds, languages, and dialects were ringing in my ears. Everything was new, unfamiliar and strange. But not so unfamiliar that my classmates and I did not understand one another. Over time, we all became very close friends. Our childish dreams bound us together – we wanted to be mathematicians, artists, scientists and teachers. Everything was normal. One day I suddenly encountered some people in the streets of my city, who I knew had come from elsewhere. Across the borders. Their skin colour and face were similar to mine. They spoke in the same language that I spoke – in my parents’ distinguished accent. I knew these refugees had come from the land in which my grandfather’s beloved was captured and sold as a slave. Seeing these faded and dusty but familiar faces changed my world – it was then I knew that my existence was forever linked to pain and suffering. They were mirrors showing my face. As I stood before them, I saw myself standing in an unknown house – not the one where I was born, but the one where fate would lead me. Suddenly, home also had another meaning: home meant escape. Of course, it was not just these refugees who had come from across the border. The enemies who had lurked behind them in the mountains had pursued them to destroy their last attempt at refuge. From that day on, the house in which I was born was devastated. My classmates from different languages, who had been my friends at school, detached themselves. Our shared dreams, lost. The distance between us grew so great that I knew I was no longer from this house. I became the ‘other’. I became one of the wearied, dusty faces from across the border. And although there was no boundary between us, and we were all citizens of one country, suddenly an invisible border of horror was drawn around me that made it impossible to get out.

خادم علی

 جب میں بچہ تھا، گھر میری جگہ تھی جہاں میں پیدا ہوا تھا: کوئٹہ، پاکستان۔ مجھے یاد ہے کہ آسمان کئی دنوں تک صاف اور نیلا رہا  تھا۔ رات ستاروں سے بھری تھی۔ چار موسموں والا شہر۔ برفباری، ٹھنڈ اور بارش اور مٹی کی خوشبو۔ یہ گھر— میرا گھر— جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا اس کی اہمیت میرے لیے بڑھتی گئی۔ ایک دن صبح سویرے میری ماں نے مجھے سب سے اچھے کپڑے پہنائے۔ انہوں نے میری آنکھیں ُچومیں اور مجھے اسکول بھیجا۔ جماعت میں میرا مختلف چہروں اور رنگوں سے سامنا ہوا: مختلف آوازیں، زبانیں، اور لہجے میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔ ہر چیز نئی، غیرمانوس اورعجیب تھی۔ مگر اتنی بھی عجیب نہیں تھی کہ میں اور میرے ہم جماعت ایک دوسرے کو سمجھ نہ سکتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم سب قریبی دوست بن گئے۔ ہمارے بچپن کے خوابوں نے ہمیں ایک ساتھ یکجا رکھا— ہم ریاضی دان، فنکار، سائنس دان اوراستاد بننا چاہتے ہیں۔ ہر چیز معمول کے مطابق تھی۔

ایک دن اپنے شہر کی سڑکوں پر میرا سامنا کچھ ایسے لوگوں سے ہوا جن کا مجھے پتا تھا کہ کہیں اور سے آئے ہیں۔ سرحد پار، ان کی جلد کا رنگ اور چہرہ میرے جیسا تھا۔ وہ وہی زبان بولتے تھے جو میں بولتا تھا— میرے والدین کے نمایاں لہجے میں۔ میں جانتا تھا کہ یہ پناہ گزین ُاس سرزمین سے آئے تھے جہاں میرے دادا کا محبوب پکڑا اور بیچا گیا تھا۔ ُان مرجھائے ہوئے اور گردآلود مگر جانے پہچانے چہروں نے میری دنیا بدل دی— یہ وہی لمحہ تھا جب میں نے جانا کہ میرا وجود ہمیشہ کے لیے درد اور دکھ سے جڑا ہوا ہے۔ وہ آئینے تھے جن میں سے میرا چہرہ نظر آتا تھا۔ جیسے ہی میں ُان کے سامنے کھڑا ہوا، میں نے خود کو ایک نامعلوم گھر میں کھڑا پایا۔ ُاس گھر میں نہیں جہاں میں پیدا ہوا تھا مگر ُاس میں جہاں مقدر مجھے لے گیا۔ اچانک، گھر کوبھی ایک اور مفہوم مل گیا: گھر کا مطلب تھا فرار۔

بلاشبہ، صرف پناہ گزین ہی سرحد پار سے نہیں آئے تھے۔ دشمن جو پہاڑوں میں ُان کے پیچھے چھپ گئے تھے، ُانہوں نے پناہ گاہ میں ُان کی آخری کوشش کو تباہ کرنے کے لیے ُان کا پیچھا کیا۔ ُاس دن سے ، گھر جس میں َمیں پیدا ہوا تھا تباہ ہو گیا۔ مختلف زبانیں بولنے والے میرے ہم جماعت جو اسکول میں میرے دوست تھےالگ ہو گئے۔

ہمارِے سانجھے خواب کھو گئے۔ ہمارے بیچ فاصلے اتنے زيادہ بڑھ گئے کہ میں جان گیا کہ میں اب اس گھر سے نہیں ہوں۔ میں دوسرا بن گیا۔ میں سرحد پار سے عجیب ترین، گردآلود چہروں میں سے ایک ہو گیا۔ اور حالانکہ ہمارے بیچ کوئی سرحد نہیں تھی اور ہم سب ایک ملک کے شہری تھے، اچانک دہشت کی ایک غیرمرئی سرحد میرے گرد کھینچ دی گئی جس نے اس سےباہر جانا ناممکن بنا دیا۔





Text courtesy the artist
Co-Commissioned by Australia Council for the Arts, Institute of Modern Arts (Brisbane, Australia), & Lahore Biennale Foundation