Amina Menia

Lost Senses, 2016
Series of photographs, variable dimensions

For several years now, I look at the landscape of my city and its buildings to apprehend the history and the transformations of my society. Inevitably, I have worked on its colonial and post-colonial period, fundamental to understand our contemporary history.
I developed a real passion (not to say a necessity) for history, memory and commemoration. I document, collect and compare stories about memorials or monuments. I also explored the post-independence euphoria and disillusion.
But closer to me is the transformational period of the nineties, called chastely by the Algerians the “black decade”, and widely known as “civil war”. It was more than a decade of violence and trauma, of urban attacks and mass assassinations making too many victims.
We can’t see any trace of this violence nowadays. All the walls in the streets are clean and repaired. A Lebanese journalist visiting Algiers told me that she was amazed by the absence of traces, of bullets on the facades. Everything is repaired. The scars are maybe invisible, but they are interiorised. We have to dig in our memories and into archives to reminisce the events. Therefore, it is through the absence that I need to apprehend this question.

پچھلے کئی برسوں سے َمیں اپنے شہر کے منظرنامے اور اس کی عمارتوں پر نظر ڈالتی ہوں تاکہ میں اپنے معاشرے کی تاریخ اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں جان سکوں۔ حتمی طور پر، میں اس کے نوآبادیاتی اور بعداز نوآبادیاتی دور پر کام کر چکی ہوں جو ہماری ہم عصر تاریخ کو سمجھنے کے لیےضروری ہے۔

مجھ میں تاریخ، یاداشت اور یادگار کے لیے حقیقی جذبہ پیدا ہوگیا۔ میں یاداشتوں یا یادگاروں سے متعلق کہانیاں ریکارڈ کرتی ہوں، جمع کرتی ہوں اور ان کا موازنہ کرتی ہوں۔میں نے آزادی کے بعد کے دور کا احساس راحت اور مایوسی بھی دریافت کی۔ لیکن 90ء کی دہائی کا تغیر پذیر دور میرے زیادہ قریب تر ہے جسے الجزائری شستگی سے ‘سیاہ عشرہ’ کے نام سے پکارتے ہیں اور جو عام طور پر خانہ جنگی کے نام سے مشہور ہے۔

تشدد، صدمے، شہری حملوں اور قتل عام کا یہ دور ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط ہے جس کا متعدد افراد نشانہ بنے۔ داغ چاہے ناقاب ِل دید ہوں مگر وہ داخلی ہو کر رہ گئے ہیں۔

ہمیں اس قسم کے تشدد کا آج کل کہیں سراغ نہیں ملتا۔ گلیوں کی تمام دیواریں صاف اور مرمت شدہ ہیں۔ الجزائر کا دورہ کرنے والی ایک لبنانی صحافی نے مجھے بتایا کہ وہ عمارتوں پر گولیوں کے نشانات کی غیرموجودگی پر حیران رہ گئی۔ ہر شے مرمت کردی گئ ہے- واقعات کی یادہانی کے لیے ہمیں اپنی یاداشتوں اور ریکارڈ کو کھنگلانا ہوتا ہے۔ اسی لیے، مجھے اسی غیرموجودگی کے ذریعے اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔

 




Text provided by the artist
Co-commissioned by Sharjah Art Foundation